MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ترک الفت میں بھی اس نے یہ روایت رکھی

ترک الفت میں بھی اس نے یہ روایت رکھی
روز ملنے کی پرانی وہی عادت رکھی

تو گیا ہے تو پلٹ کر نہیں پوچھا میں نے
ورنہ برسوں تری یادوں کی امانت رکھی

کل اچانک کوئی تصویر بنی کاغذ پر
مدتوں سب سے چھپا کر تیری صورت رکھی

وہ مقدر میں نہیں ہے تو اسی کے دل میں
کس نے ہر شے سے زیادہ چاہت رکھی

خود ہی ملتا ہے بچھڑتا ہے یشبؔ اپنے لیے
آنے جانے کی عجب اس نے سہولت رکھی

یشب تمنا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم