ایسی بارش ہے کہ رونے میں سہولت کم ہے
یوں بھی اس چھوڑنے والے کی نحوست کم ہے
آئنہ دیکھنے بیٹھوں تو چھلک پڑتا ہوں
عشق لاحق ہے مگر آنکھ میں وحشت کم ہے
میں جو اس دیپ کو مہتاب سمجھ بیٹھا ہوں
ہو نہ ہو نیند کی حالت میں بھی حیرت کم ہے
اچھے لوگو ! مرے معیار پہ آ کر دیکھو!
میں جو منہ پھٹ ہوں ،مرے خون میں نفرت کم ہے
وہ تو میں چاہنے والوں کا بھرم رکھتا ہوں
ورنہ درویش کو دنیا کی ضرورت کم ہے
ارشاد نیازی