MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اگرچہ جاننے والوں کے ساتھ چلتے ہیں

غزل

اگرچہ جاننے والوں کے ساتھ چلتے ہیں
مگر ہم اپنے سوالوں کے ساتھ چلتے ہیں

طلب تو دیکھ ہماری ترے نگر کی طرف
ہم اپنے پاؤں کے چھالوں کے ساتھ چلتے ہیں

سب اپنے اپنے تضادوں کے دم سے ہیں زندہ
سب اپنے اپنے حوالوں کے ساتھ چلتے ہیں

بدن سنبھال کے چلنا شکاریوں کے ہجوم
سڑک پہ ریشمی جالوں کے ساتھ چلتے ہیں

سفر کے واسطے وہ راستہ چنا جس پر
عذاب قافلے والوں کے ساتھ چلتے ہیں

میں ٹوٹتا ہوا تارا ہوں کتنے اندیشے
مرے نحیف اجالوں کے ساتھ چلتے ہیں

امداد آکاش

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم