MOJ E SUKHAN

مر ہی گئے جفاؤں سے قاتل تڑپ تڑپ

غزل

مر ہی گئے جفاؤں سے قاتل تڑپ تڑپ
میں کیا کہ اور کتنے ہی بسمل تڑپ تڑپ

پنجڑے کو توڑ سینے کے یہ مرغ دل مرا
نکلے گا کوئی دم ہی میں غافل تڑپ تڑپ

کہتے ہیں اضطراب ہے تیرا پسند یار
آرام و صبر بھول جا گھائل تڑپ تڑپ

میں کس روش سے تم کہو ممنون دل نہ ہوں
پہنچا دیا ہے ان نے بہ منزل تڑپ تڑپ

آرام زندگی تو گیا مدتوں سے عشقؔ
دیکھیں پھر آگے کیا کرے یہ دل تڑپ تڑپ

خواجہ رکن الدین عشق

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم