غزل
اجنبی عشق میں ہو جاتا ہے اکثر اپنا
تجھ سے واپستہ ہوا آج مقدّر اپنا
آکے پردیس میں یاد آیا وطن گھر اپنا
وہ جہاں اپنا محبت کا سمندر اپنا
درودیوار مکینوں کو کہاں بھول سکے
ہم کو سو کوس سے آتا ہے نظر گھر اپنا
کم نصیبی کا زمانہ میں گزار آئی ہوں
مل گیا آج مجھے میرا وہی در اپنا
گفتگو جاری رہی شکوے گلے ہوتے رہے
یاد کرتا رہا اس کو دل مضطر اپنا
رک نہ پایا سمے چلتا رہا دھیرے دھیرے
وقت نے پورا کیا زیست کا چکر اپنا
اپنی تاریخ سے سیکھیں تو کوئی بات بنے
شاید اس طرح سنور جائے مقدّر اپنا
شاعری میں وہ خیالات قلمبند کیے
آج دنیا میں ثمر چرچا ہے گھر گھر اپنا
ثمرین ندیم ثمر