MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

مری داستاں کو فسانہ بنا دے

مری داستاں کو فسانہ بنا دے
کوئی مژدہ جاں فزا پھر سنا دے

پلا کے نگاہوں سے اک جام ساقی
زمانے سے مجھ کو بیگانہ بنا دے

چراغ سحر ہوں دم واپسیں ہے
کوئی اب تو مطلب وفا کا بتا دے

میں تقدیر کا گرچہ قائل نہیں ہوں
مگر عین ممکن ہے ان سے ملا دے

سنا ہے وہ کرتے ہیں مردوں کو زندہ
مجھے مثل لعزر وہ شائد جلا دے
اقبال بسمل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم