MOJ E SUKHAN

بعد مدت کے مرے شہر میں آیا ہے کوئی

بعد مدت کے مرے شہر میں آیا ہے کوئی
حوصلہ اک نیا جینے کا ملا ہے کوئی

کتنا دل کش ہے یہ انداز ترے ملنے کا
یوں لگا جیسے بہاروں کی ادا ہے کوئی

وقت کے ساتھ ہی بھر جائے گا یہ زخم نیا
زخم تازہ کی طرح مجھ سے خفا ہے کوئی

میرے گلشن کی خدا خیر کرے ہے یہ دعا
بجلیوں کے بھی کڑکنے کی صدا ہے کوئی

کیوں سرِ راہِ محبت ہے تو تنہا تنہا
نیند آنکھوں سے ہے اوجھل یا خفا ہے کوئی

مل ہی جائیں گے ہے بس شرط یہی اک سادا
اس کو بھی یاد اگر عہدِ وفا ہے کوئی

شاعری ہے تری اقبال یا پھر اتنا بتا
اشک آنکھوں سے ٹپکنے کی صدا ہے کوئی

ڈاکٹر سید محمد اقبال شاہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم